الیکشن کمیشن کا بیان محض لفظوں کا جال

ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد الیکشن کمیشن کے خلاف جو سخت تنقید کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس سے بچنے کے لیے کمیشن نے جو وضاحتی بیان جاری کیا ہے وہ لفظوں کے جال میں اپنے معترضین کو الجھانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔اس بیان میں ایسی کوئی بات نہیں کہ جسے الیکشن کمیشن کی ایمانداری یا فرض شناسی پر مبنی قرار دیا جا سکے ۔کمیشن نے اپنے اوپر مذکورہ رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کو مسترد نہیں کیا ہے بلکہ اسے ٹکرائو کی بجائے نظریاتی اختلافات کا نام دیکر اس کا وزن کم کرنے اور معمولی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے،حالانکہ الیکشن کمیشن کی یہ بچکانہ وضاحت اس کے رویے پر مزید سوالیہ نشان لگاتی ہے،اور اس الزام کو پختہ کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلوں میں اتفاق رائے کا فقدان ہے۔یہ فیصلے کمیشن میں داخلی سطح کے اختلافات یا ٹکرائو کو غیر جمہوری انداز سے پس پشت ڈال کر ’کسی کے سیاسی مفادات کی تکمیل‘کی غرض سے لیے جا رہے ہیں۔ دراصل یہ پورا تنازعہ انگریزی روزنامہ’دی انڈین ایکسپریس‘میں شائع اس رپورٹ کے بعد پیدا ہو ا ہے،جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے تین رکنی پینل میں سے دو یعنی الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھواور وویک جوشی نے گزشتہ 10ماہ میںکم از کم 14مرتبہ کمیشن کی طرف سے جاری ایس آئی آر میں الیکٹورل رولزسے متعلق فیصلوں اور احکامات پر تحریری طور پر اعتراضات درج کیے۔ان اعتراضات میں سب سے اہم اعتراض ان دو الیکشن کمشنروں کی معلومات کے بغیر کچھ فیصلے لیے جانا بھی تھا۔اسی طرح دوسرا بے حد اہم اعتراض یہ تھا کہ نئے ووٹرز کے رجسٹریشن کا فارم یعنی فارم۔6میںجو تبدیلیاں کی گئیں وہ غیر قانونی تھیں اس کے علاوہ دیگر اعتراضات میں بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنے پر بھی اعتراض درج کرایا گیا تھا۔واضح رہے کہ اب تک جن ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل انجام پایا ہے وہاں مجموعی طور پر تقریباً 13کروڑ ووٹروں کے نام لسٹ سے خارج کیے جا چکے ہیں۔اس کے نتیجے میں بہت سے ووٹر اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو گئے اور بہار و مغربی بنگال جیسی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں اس کا راست فائدہ حکمراں جماعت کو پہنچا۔یہ صورتحال الیکشن کمیشن کے ذریعے ملک کے کچھ ’چنندہ‘ووٹروں کو ان کے جمہوری حق سے محروم کرنے کی کوشش کے سوا کیاہے؟ ظاہر ہے اس طرح کے فیصلے بے سبب نہیں لیے گئے ، اور اسی لیے ایسے فیصلوں میں باقی دو الیکشن کمشنروں کو باخبر نہیں رکھا گیا ۔یہی سبب ہے کہ دلی میں ایس آئی آر سے متعلق جن اہم اور قابلِ ذکر افراد کو نوٹس جاری ہوئے ہیں ان میں خود ایک الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو کا نام بھی شامل ہے۔یہ حقیقت اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک بے حد اہم آئینی اور قانونی عمل کو کس سطح کی لا پروائی کے ساتھ انجام دیا گیا اور کس طرح جمہوری عمل کو مذاق بنا دیا گیا۔یہ حقیقت بے معنی ہے کہ بعد میں ایسے اہم ناموں کو دوبارہ فہرست رائے دہندگان میں شامل کر لیا گیا۔ اب تنازع سے متعلق مذکورہ تمام پہلوئوں پر الیکشن کا وضاحتی بیان ملاحظہ فرمائیں اور اس کی عقل پر اپنا سر دھنیں کہ کس پھوہڑ انداز میں اور حقائق کونظر انداز کرتے ہوئے وضاحت پیش کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ،’’مختلف آراء اور مشاہدات کسی بھی ادارے میں مشاورت کا عام حصہ ہیں،یہ حتمی فیصلے سے پہلے ،فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہیں۔‘‘اس وضاحت میں جس بنیادی نکتے کو نظر انداز کر دیا گیا وہ یہ ہے کہ الیکشن کمشنروں کے اس الزام پر کچھ نہیں کہا گیا کہ انھیں بہت سے فیصلوں سے باخبر نہیں کیا گیا ۔یعنی یہاں جس مشاورت کی بات کہی گئی ہے اس کا جواب غائب ہے۔اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ’ نہ صرف تینوں کمشنرز بلکہ کمیشن کا ہر افسر الیکٹورل سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز دے سکتا ہے۔‘کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک طرف تو دو الیکشن کمشنرزکو بہت سے فیصلوں سے بے خبر رکھنے کا الزام ہے ،دوسری طرف یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کمیشن کا ہر افسر تجاویز پیش کرنے کا مجاز ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا کمیشن کے دیگر افسران اور کمیشن کے سہ رکنی پینل میں چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ شامل دیگر دو کمشنروں کے اختیارات یکساں ہیں؟اور ان کی تجاویز یا الزام کو کمیشن کے دیگر افسران کے کسی الزام کی طرح رد کیا جا سکتا ہے؟کیا ان دو کمشنروں کو کسی فیصلے سے باخبر نہ کرنے کے تعلق سے کوئی بھی جواز قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے ایسا قطعی نہیں ہے ۔دراصل یہ بیان یا وضاحت چیف الیکشن کمشنر کی منمانی یاآمریت یا پھر ان پر کسی دوسری اور ان سے بڑی شخصیت کے دبائو کا شک پیدا کرتی ہے۔کمیشن نے اپنی وضاحت میں اخبار مذکورہ کی رپورٹ پر تبصرہ کیا ہے کہ اس میں تصویر کا صرف ایک رخ دکھایا گیا ہے اور یہ کہ گزشتہ ایک برس کے تمام اہم فیصلے مکمل کمیشن کے اتفاق رائے سے لیے گئے۔لیکن اس وضاحت میں بھی ایک جھول ہے اور وہ یہ کہ تصویر کا صرف ایک رخ دکھانے سے کیا حقائق بدل جاتے ہیں۔کیا اس ایک رخ میں لگائے گئے الزامات غیر اہم ہیں؟ اگر گزشتہ ایک سال میں تمام فیصلے اتفاق رائے سے لیے گئے تو پھر باقی دو الیکشن کمشنروںکے اختلافی نوٹ کو کس خانے میں رکھیں گے؟ اگر تین کمشنروں میں سے دوکسی فیصلے پر اختلاف کرتے ہیں اور اس کے باوجود فیصلہ لے لیا جاتا ہے تو اسے اتفاق رائے سے لیا گیا فیصلہ تو قطعی نہیں کہا جا سکتا۔کمیشن کے بیان میں یہ موقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ’ نظریاتی اختلاف کوٹکرائو نہ سمجھا جائے۔‘اس وضاحت کو محض لفظوں کے جال میں معترضین کو الجھانے کی کوشش کے سوا اور کیا سمجھا جائے؟ اب الیکشن کمیشن جیسے ادارے میں ٹکرائو سے مرادلٹھ بازی تو بہرحال نہیں ہو سکتی۔ظاہر ہے جسے نظریاتی اختلاف کا نام دیا جا رہا ہے اور جس کے تحت مذکورہ دو الیکشن کمشنروں نے اپنے اختلافی نوٹ لگائے وہ صورتحال ٹکرائو جیسی ہی ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ اگر اس اختلاف کو صرف نظریاتی یا رائے کا اختلاف مان لیں تب بھی معترضین کے اعتراضات درست ہی ثابت ہوتے ہیں۔نظریاتی اختلاف کی صورت میںکسی بھی فیصلے کو نافذ کر دینا جمہوری مزاج اورآئینی عمل کے مطابق تو قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگر دو الیکشن کمشنر کسی معاملے میں یہ اعتراض کر رہے ہیں اور اختلافی رائے رکھتے ہیں کہ ایسا کرنا غیر قانونی ہے تو اس موقف کو پورا احترام دیتے ہوئے غیر جانبدار قانونی و آئینی ماہرین پر اس تعلق سے رائے طلب کیے جانے کی ضرورت تھی۔نظریاتی اختلاف کوئی ایسی بات نہیں کہ جسے بہت ہلکے انداز میں نظر انداز کر دیا جائے۔ اسی طرح 13کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں کہ جس پر کمیشن کے ذمہ دار سنجیدہ غور و خوض کرنے کی بجائے اپنے کام کو آگے بڑھائیں اور اس تعلق سے آنے والے اعتراضات کو نظر انداز کر دیں۔مسئلہ صرف یہ نہیں کہ 13کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے۔بلکہ زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس پر الیکشن کمیشن نے کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا کہ آخر ایسا کس کوتاہی کی بناء پر ہوا۔اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج ہو جانے کو جمہوریت کے ساتھ بھدّا مزاق نہ مانا جائے تو کیا سمجھا جائے؟دو ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے ہیںان سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ کس طرح الیکشن کمیشن کی اس کوتاہی یا پھر دیدہ و دانستہ کی گئی لا پروائی نے حکمراں جماعت کو فائدہ اور اپوزیشن پارٹیوں کو نقصان پہنچایا۔سب سے اہم بات یہ کہ اس کے نتیجے میں ہندوستانی جمہوریت پوری دنیا میں بدنام ہوئی۔سوال یہ بھی ہے کہ ملک کے 13کروڑ ووٹر الیکشن کمیشن کے ممبران کے درمیان کسی نظریاتی اختلاف کی سزا کیوں بھگتیں؟کیا ان حالات میں الیکشن کمیشن کی ذمہ داری طے نہیں کی جانی چاہیے؟جو نظریاتی اختلاف یا عدم اتفاق ہماری جمہوریت کو کمزور کر رہا ہے اس کی محض ایک وضاحتی بیان سے لیپا پوتی بہت سے شکوک پیدا کرتی ہے اور قانون کی حکمرانی کا تقاضہ یہ ہے کہ ان شکوک کا ازالہ کیا جائے ۔سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن میں کمشنروں کی تقرری سے متعلق معاملے پر دائر عرضیوں پر یہی کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے لیے صرف اس کا غیر جانبدار ہونا کافی نہیں ہے،بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ غیر جانبدار نظر بھی آئے۔ بہرحال جہاں تک الیکشن کمیشن کے مذکورہ وضاحتی بیان کا تعلق ہے تو اس میں معترضین کو الفاظ کے جال میں الجھایا گیا ہے اور اعتراضات کے قانونی و آئینی پہلوئوں پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ naqvisiraj58@gmail.com