حکومت کے خلاف ملک کے عوام کی صف آرائی نے حکومت کو بری طرح بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد ’’انڈیا‘‘ بھی متحد نظر آرہا ہے۔ایک طرف حکومت پر لگائے جانے والے اپوزیشن پارٹیوں کے وہ الزامات ہیں کہ جن کے ٹھوس ثبوت پوری دنیا کے سامنے آچکے ہیں اور عالمی میڈیا تک میں مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،تو دوسری طرف حکومت کے ذمہ دار اپنے دفاع میں کچھ کہنے کی بجائے اپوزیشن پارٹیوں خصوصاً کانگریس اور راہل گاندھی پر بے بنیاد الزام لگا کر ’’چور کی داڑھی میں تنکا‘‘ کے مترادف عمل کرکے اپنے خوف اور گھبراہٹ کا اظہار کر رہے ہیں۔اپنے مخالف کے کسی الزام کا جواب دینے کی بجائے اس پر جوابی الزام سے حملہ کرنا بزدلی اور احساسِ جرم سے پیدا گھبراہٹ کا جواب تو ہو سکتی ہے،لیکن اس طرح کا عمل کسی بھی طرح ملزم کے بے گناہ ہونے کا ثبوت نہیں بن سکتا۔اسی لیے حکمراں اپنے بنائے ہوئے جال میں خود ہی پھنستے جا رہے ہیں۔اگر کسی شخص پر کوئی الزام لگا کر اس کے خلاف فوجداری مقدمہ دائر کر دیا جائے اور اسے عدالت میں پیش کر دیا جائے تو ملزم کا دفاع فریق استغاثہ پر الزام تراشی سے بہر حال نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ حالات میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے دستِ راست یا ’’چانکیہ‘‘یعنی امت شاہ کا عمل اسی طرح کی بوکھلاہٹ و گھبراہٹ کا شکار نظر آتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر کے ’بلومبرگ نیو اکنامی فورم ‘میں دیے گئے گئے حالیہ بیان پر نگاہ ڈالیے۔13اکتوبر کو اس پروگرام میں دیے گئے بیان میں مودی نے جو کچھ کہا اس میں زمینی حقائق کو اس طرح نظر انداز کیا گیا کہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی گھبرائے ہوئے ہیں اور اس گھبراہٹ میں انھیں شائد یہ احساس بھی نہیں ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔بلکہ ان کا یہ بیان حقائق کے قطعی برعکس اور سچ پر جھوٹ کی ملمع کاری کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔مودی کے اس فورم میں دیے گئے بیان سے پہلے یہ جان لیں کہ اس فورم کا مقصد کیا ہے۔مختصر الفاظ میں بات کریں تو اس ’فورم کا پہلا مقصد حکومتوں اور کاروباری دنیا کے درمیان شراکت،نئی اور ابھرتی معیشتوں پر توجہ اور کلیدی معاشی شعبوں کو درپیش چیلنجوں پر بات چیت ہے۔‘اس تناظر میں اب مودی کی فورم میں کی گئی تقریر پر نگاہ ڈالیں۔وزیر اعظم نے پنی تقریر میں معیشت،ٹکنالوجی،توانائی اور ایسے ہی کئی دیگر موضوعات کا حوالہ تو دیا لیکن سب سے زیادہ زورجس بات پر دیا گیا وہ ان کی حکومت کی پالیسی میں دور دور تک نظر نہیں آتی۔انھوں نے ان اقتصادی موضوعات کو طاقت کا اہم پیمانہ قرار دینے کے باوجود یہ سوال کیا کہ اس طاقت کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟ اور پھر اس کا جواب دیتے ہوئے مودی نے جو کچھ کہا وہ ان کی بارہ سال کی اقتصادی پالیسی سمیت کسی بھی فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتا۔انھوں نے زور دے کر یہ بات کہی کہ’’ اس طاقت کا مقصد صرف چند لوگوں کو با اختیار بنانا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘لیکن خود مودی کے دور اقتدار میں کس طرح ملک کے وسائل اور ٹکنالوجی سے متعلق منصوبوں کو صرف دو صنعتکاروں کے تجارتی مفادات کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے اس سے پوری دنیا واقف ہو چکی ہے۔اسٹار لنک کو ہندوستان میں داخلہ دینے سے مختلف بہانوں سے گریز آخر کیا ہے؟ اسٹار لنک کی بات چھوڑیں لیکن کیا ہندوستان میں بھی دوسرے صنعتکاروں کو اس معاملے میں آگے آنے کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے؟لیکن اس کے برعکس مودی نے اپنے عہدے کا استعمال جس طرح اڈانی کے کاروبار کے فروغ کے لیے کیا اس سے بھی نہ صرف پورا ملک بلکہ پوری دنیا واقف ہے۔وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ وہ جس وژن کے ساتھ اس پروگرام میں آئے ہیں وہ ہے ’’دوسروں کو باختیار بنانے کی طاقت‘‘۔اب اگر وزیراعظم کی ’دوسروں‘ سے مراد امبانی اور اڈانی ہیں تو پھر بات ختم ،لیکن اگر وہ صدق دلی سے یہ بات کہہ رہے ہیں تو پھر معیشت سے لیکر ہر شعبے تک اور پھر سیاست تک ان کی حکومت نے دوسروں کے اختیارات کو محدود کرکے اسے کمزور کرنے پر ہی عمل کیا۔اس میں معاشی طاقت سے لیکر ایک جمہوریت میں عام آدمی کی طاقت اور سیاسی مخالفین کی طاقت جیسے تمام موضوعات شامل ہیں۔مودی حکومت نے اختیارات اور طاقت کا دائرہ چند لوگوں تک سمیٹ کر ہمارے قابلِ فخر جمہوری نظام کو طاقتور تو بہر حال نہیں کیا۔ایسے میں یہ دعویٰ کرنا کہ وہ دوسروں کو بااختیار بنانے کے وژن کے ساتھ کام کر رہے ہیں حقیقت سے دور نہیں بلکہ اس کے برعکس ہے۔وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ ’’با اختیار بنانے کی طاقت کا تصور محض دنیا کو دیا جانے والا وعظ نہیں بلکہ یہ ایک گہری تہذیبی روایت ہے،جسے ملک کے نظم و نسق اور کام کاج کے طریقوں میں اپنایا جا رہا ہے۔‘‘ کیا مذکورہ بیان میں دور دور تک سچ کا کوئی شائبہ تک نظر آتا ہے؟اپنی بات کو ’’محض وعظ‘‘ نہ ماننا ان کا خیال تو ہو سکتا لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس بیان کی حیثیت بے عمل واعظ کے وعظ سے زیادہ نہیں۔مودی نے ہندوستان کی جمہوریت کو ’’جمہوریت کی ماں‘‘ قرار دیا۔اصولی طور پر یہ بات درست سہی لیکن جمہوریت کی اس ماں کی گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ کے عرصے میں کس قدر توہین کی گئی اس سے ملک ہی نہیں پوری دنیا واقف ہو چکی ہے۔الیکشن کمیشن،عدلیہ اور دیگر آئینی اداروں کی خود مختاری پر قدغن لگاتے ہوئے انھیں حکومت کا حاشیہ بردار بنا دینا کون سی جمہوریت ہے اس کا جواب شائد مودی کبھی نہ دے سکیں۔اپنے اس ’وعظ‘ میں مودی نے فرمایا کہ ’’طاقت کا مقصد محض دوسروں پر قابو پانا نہیں۔‘‘ حالانکہ 13اکتوبر کو جب مودی یہ تقریر فرما رہے تھے اس سے ٹھیک دو اور تین دن پہلے ان کی پولیس دلّی میں پر امن مظاہرین پر طاقت کا ستعمال کرتے ہوئے جمہوریت میںملے حق احتجاج کا مذاق اڑا رہی تھی اور حکمراں جماعت سے لیکر ان کے وزیر داخلہ تک پولیس ایکشن کو درست ثابت کرنے کے لیے ایسی دلیلیں دے رہے تھے کہ جن کے پس پردہ حکومت کا آمرانہ مزاج بول رہا تھا۔یہ آمریت نہیں تو کیا ہے کہ وزیر داخلہ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کے پر امن احتجاج کو کانگریس یا راہل گاندھی کی ملک دشمن سرگرمی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے ’’در اندازوں کو بچانے کی کوشش ‘‘ قرار دے رہے تھے۔ملک کے ایک معزز سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے اور اپوزیشن لیڈر جیسے عہدے پر فائز شخص کو اگر دراندازوں کا حامی قرار دے کر اسے رد کرنے کی کوشش کی جائے اور حکومت کے زیر نگیں آ چکے تمام آئینی ادارے اگر اس شخص کی بات سننے سے دامن بچائیں تو اسے کیا کہا جائے؟کیا یہ اختیارات کو چند ہاتھوں میں محدود کرتے ہوئے جمہوریت کوفاشزم میں بدلنے کی بزدلانہ کوشش نہیں؟اہم بات یہ ہے کہ وزارت داخلہ کے پاس اپنے اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت نہیں ہیں جبکہ راہل گاندھی یا دیگر اپوزیشن پارٹیاں حکومت،الیکشن کمیشن یا سپریم کورٹ کے چند ججوں کے تعلق سے جو کہہ رہی ہیں اس کے ثبوت منظر عام پر آ چکے ہیں۔اس کے باوجود مودی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی حکومت دوسروں کو با اختیار بنانے کے اصول پر عمل پیرا ہے۔آخر اس دعوے کو کس بنیاد پر سچ مانا جائے؟مودی نے دعویٰ کیا کہ اب سے ایک دہائی سے کچھ زیادہ پہلے تک موبائل فون اور انْتر نیٹ تک صرف مراعات یافتہ طبقے کو رسائی حاصل تھی۔‘‘ ظاہر ہے عالمی سطح پر انٹر نیٹ اور موبائل فون کے استعمال کو مودی اپنی حکومت کی حصولیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ ٹکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اس کی قیمتوں میں کمی ایک عالمی رجحان ہے اور اس کا کسی بھی حکومت سے اور خصوصاً مودی حکومت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اپنی تقریر میں وزیر اعظم نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اٹھائے حکومت کے مبینہ اقدامات کا بھی ذکر کیا ۔لیکن اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ جس شخص کو وزیر اعظم کسی ایک دن بدعنوان ترین انسان قرار دیتے ہیںاس سے اگلے ہی دن جب وہ شخص ان کی پارٹی یا محاذ میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا جاتا ہے۔کیا اسے انسداد بدعنوانی کے لیے اٹھایا گیا قدم قرار دیا جا سکتا ہے؟وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’اصل سوال یہ نہیں کہ اقتدار کس کے پاس ہے۔بلکہ سوال یہ ہے کہ اس کا استعمال کیسے کیا جا رہا ہے؟ مودی جی ملک کے عوام اور میڈیا بھی تو آپ سے یہی سوال کر رہا ہے کہ اقتدار کا استعمال کس طرح کیا جا رہا ہے؟عوام سے جمہوریت کے نام پر حاصل طاقت کو اگر عوام کو دبانے کے لیے استعمال کیا جانے لگے تو کیا اسے اقتدار کا درست استعمال قرار دیا جا سکتا ہے؟ ظاہر ہے نہیں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے مذکورہ پلیٹ فارم سے جو کچھ کہا اس پر آپ اور آپ کی حکومت نے خود عمل نہیں کیا اور اب اقتدار جانے کے ڈر سے آپ طاقت کا استعمال اسے بچانے کے لیے کر رہے ہیں،اور یہ محض آپ کی حکومت کی گھبراہٹ کا ثبوت ہے اور کچھ نہیں۔ naqvisiraj58@gmail.com Mobile:9811602330
حکومت اس قدر گھبرائی ہوئی کیوں ہے؟
مودی نے ہندوستان کی جمہوریت کو ’’جمہوریت کی ماں‘‘ قرار دیا۔اصولی طور پر یہ بات درست سہی لیکن جمہوریت کی اس ماں کی گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ کے عرصے میں کس قدر توہین کی گئی اس سے ملک ہی نہیں پوری دنیا واقف ہو چکی ہے۔الیکشن کمیشن،عدلیہ اور دیگر آئینی اداروں کی خود مختاری پر قدغن لگاتے ہوئے انھیں حکومت کا حاشیہ بردار بنا دینا کون سی جمہوریت ہے اس کا جواب شائد مودی کبھی نہ دے سکیں