مذہبی بنیاد پر ڈاٹاطلبی،کس کا ایجنڈہ ہے؟

مرکزی سرکار کے ذریعے تشکیل شدہ اعلیٰ سطحی ’آبادیاتی تبدیلی کمیٹی‘ نے تمام ریاستوں سے مختلف موضوعات سے متعلق اعداد و شمار طلب کیے ہیں۔ان موضوعات میں سند پیدائش،گاڑیوں کا رجسٹریشن،اسکولوں میں نامزدگی اور پراپرٹی سے متعلق لین دین،آدھار ،ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ کے رجسٹریشن میں ہوا غیر معمولی اضافہ،عبادتگاہوں خواہ مندر مسجد ،چرچ یا دوسری کوئی بھی عبادتگاہ ہو،اس کی ضلع وار تفصیل جیسے موضوعات شامل ہیں۔اس تعلق سے باعث تشویش بات یہ ہے کہ ہمارا آئین مذہبی بنیاد پر کسی بھی طرح کے اعداد و شمار طلب کرنے کی اجازت حکومت کو نہیںدیتا۔ جبکہ مذکورہ کمیٹی نے مذہبی بنیاد پر ہی مندرجہ بالا معلومات طلب کی ہیں۔کمیٹی نے اس وقت ملک میں کام کر رہے detention centresکی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ اس معاملے سے متعلق ایک رپورٹ موقر انگریزی روزنامہ’دی ہندو ‘ نے شائع کی ہے۔اس رپورٹ میں ریاستی حکومتوں کے چند افسران کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سند پیدائش(جس پر نو مولود کا مذہب بھی درج ہوتا ہے۔)اور گرفتار کیے گئے یا ڈپورٹ کیے گئے بغیر مناسب کاغذات والے تارکین کی تعداد کو چھوڑ کر باقی تمام زمروں کا مذہبی بنیاد پر ڈاٹا موجود نہیں ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارا آئین مذہبی بنیاد پر اس طرح کے اعداد و شمار جمع کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے،جبکہ مذکورہ کمیٹی نے مذہبی بنیاد پر ہی یہ جانکاری مانگی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہی سبب ہے کہ کمیٹی کے ذریعے پوچھے گئے سوالوں میں سے 35سوالوں کا جواب دینے میں ریاستی سرکاروں میں کشمکش ہے۔ واضح رہے کہ جس وقت یہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اسی وقت اس کے درپردہ مقاصد اور ظاہری ایجنڈے پر سوال اٹھے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیٹی میں کسی بھی demographerیعنی ایسے شخص یا ماہر کو شامل نہیں کیا گیا کہ جو آبادیاتی تبدیلی جیسے موضوع کے تعلق سے ماہرانہ رائے یا معلومات رکھتا ہو۔ویسے بھی بی جے پی یامودی کے دور ِ اقتدار میں کسی کمیٹی،شعبے یا آئینی ادارے کی رکنیت کے لیے متعلقہ موضوع کی مہارت لازمی شرط نہیں ہوتی بلکہ ’ہندوتو‘کی مہارت رکھنے والے آر ایس ایس کے ممبران کو ایسے معاملات میں ترجیح دی جاتی ہے۔بی جے پی کی ریاستی حکومتوں سے لیکر ملک بھر کی بیشتر ریاستوں،کمیشنوں،نوکر شاہوں اور گورنروں میں سنگھ کے ممبران کی بڑی تعدا د کی موجودگی اس کا ثبوت ہے۔ایسے میں اگر آئینی پابندیوں یا حدود کو نظر انداز کرتے ہوئے سرکاری محکموں سے کچھ اعداد و شمار طلب کیے جا رہے ہیں تو وہ سنگھ کے ایجنڈے کے مطابق تو ہو سکتے ہیں لیکن ان کا آئین کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔زیر بحث معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔اسی لیے اس بات کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس طرح سے حاصل اعداد وشمار کا استعمال اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کر سکتی ہے۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ جب سے مودی سرکار اقتدار میں آئی ہے ہندو آبادی مبینہ طور پر کم ہونے اور مسلم آبادی میں اضافے کا خوف دلا کر ہندو اکثریت کو اگمراہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اب تک ان کوششوں میں بی جے پی یا سنگھ کو کامیابی اس لیے نہیں ملی ہے کہ حاصل شدہ معلومات سے اس طرح کے دعووں کی تصدیق نہیں ہوتی۔اسی طرح کے دیگر معاملات بھی ہیں جو سنگھ یا بی جے پی کے گمراہ کن دعووں کی حقائق کی بنا پر نفی کرتے ہیں،لیکن اب مذکورہ کمیٹی نے جو اعداد و شمار ریاستوں سے طلب کیے ہیں ان میں ایس آی آر کی طرح بھاری گڑبڑی یا بدعنوانی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔اسی لیے یہ ممکن ہے کہ ان اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر اور اس طرح مذہبی منافرت کے ایجنڈے کو نئی دھار دے کر ماحول کو مزید خراب کرنے کی کوشش کی جائے۔’دی ہندو‘ کی رپورٹ میں اس طرح کے اندیشے ظاہر بھی کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں یہ بات بھی اٹھائی گئی ہے کہ جب مردم شماری کا عمل شروع ہو چکا ہے تو اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس طرح کے اعداد و شمار جمع کرنے کا کیا مطلب ہے؟اسی طرح اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ کمیٹی نے جو اعداد و شمار ریاستی حکومتوں سے طلب کیے ہیں ان میں زیادہ زور غیر قانونی رہائش کے معاملے پر دیا گیا ہے۔ detention centres سے متعلق معلومات طلب کرنا بھی حکومت کی اسی درپردہ پالیسی کا حصہ لگتا ہے۔بی جے پی برسوں سے مبینہ غیر قانونی طور پر ہندوستان میں رہ رہے بنگلا دیشیوں، روہنگیا مسلمانوں وغیرہ کافرضی مسئلہ اٹھا کر ہندو ووٹ بنک کو متحد کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے۔اس مقصد سے فرضی اعداد شمار سے لے کر جھوٹے دعووںتک کا سہارا جاتا رہا ہے اور عوام کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے۔اب جبکہ حکومت پر بی جے پی کا قبضہ ہے تو اعداد و شمار کے کھیل میں اپنے جھوٹے دعووں کو حقیقت میں بدلنا کچھ مشکل نہیں۔جب الیکشن کمیشن سے ووٹ چوری کے حربوں پر عمل کرایا جا سکتا ہے تو پھر مذکورہ کمیٹی کے ذریعے اعداد و شمار کو مطلوبہ رخ دینا کوئی مشکل کام نہیں۔اسی لیے اگر اس تعلق سے کچھ ماہرین اور کانگریس جیسی پارٹی میں خدشات پائے جاتے ہیں تو انھیں مسترد نہیں کیا جا سکتا۔یہ بات بے معنی ہے کہ موہن بھاگوت امریکہ میں کہہ آئے کہ ،’’جو ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان مسلمانوں کے لیے نہیں ہے،یا جو مسلمانوں کو ہندوستان میں نہیں دیکھنا چاہتا وہ ہندو نہیں ہو سکتا۔‘‘بھاگوت کے اس دعوے کو اس شکل میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں حراستی مراکز بنائے گئے ہیں ان میں بڑی تعداد میں مسلمانوں کو ہی ڈالنے کا سنگھ اور بی جے پی کا منصوبہ ہے ۔یعنی ہندوستان میں مسلمانوں کو رہنے دینے کا مطلب انھیں تمام شہری اور جمہوری حقوق دیا جانا نہ ہوکر انھیں دوسرے درجے کا شہری بنانا بھی تو ہو سکتا ہے۔ڈیموگرفیکل تبدیلیوں سے متعلق مرکزی کمیٹی کے ذریعے طلب کیے گئے اعداد شمار اس منصوبے پر عمل کا ہی ایک حصہ بھی تو ہو سکتے ہیں۔’دی ہندو ‘ نے اگر اس بات پر انگلی اٹھائی ہے کہ طلب شدہ اعداد و شمار میں غیر قانونی سکونت کے مسئلے پر زیادہ زور دیا گیا ہے تو اس کے پس پردہ مقاصد اور اس تعلق سے سنگھ اور بی جے پی کے ایجنڈے کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے اصل مقصد کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔حالانکہ یہ مان لینا بھی مناسب نہیں ہوگا کہ اس جانکاری طلب کرنے میں صرف مسلمانوں کو ہی ذہن میں رکھا گیا ہے۔دلت ،پسماندہ طبقات اور مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذہبی اقلیتیں بھی اس کا نشانہ ہو سکتی ہیں۔اس لیے کہ سنگھ ہندوتو کی جس تعریف کو مانتا ہے اس میں ہندوئوں کی مبینہ اعلیٰ ذاتوں کے علاوہ باقی سب کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے منصوبے کو ہی اہمیت حاصل ہے۔سنگھ پریوار آج بھی ’ورن نظام‘ کو ہی بنیادی حیثیت دیتا ہے ،اور منواد آج بھی اس کے ایجنڈے میں کسی نہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔’دی ہندو‘ کی جس رپورٹ کا ذکر مندرجہ بالا سطور میں کیا گیا اس میں یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ’ ڈیموگرفیکل تبدیلی سے متعلق کمیٹی اصل مسئلے کی بجائے توجہ دوسری سمت موڑ رہی ہے،تاکہ حاصل شدہ اعداد و شمار کا غلط استعمال کرکے بر سراقتدار جماعت کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘اب یہ تو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ حکمراں جماعت کا ایجنڈہ دراصل آر ایس ایس کا ہی ایجنڈہ ہے،اور اس تنظیم کے سخت گیر ہندوتو کے ایجنڈے سے ملک کا ہر سمجھدا ر شہری اچھی طرح واقف ہے۔آج ملک میں کس طرح مسلمانوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،کس طرح مسلمانوں کے مدارس کو مختلف بہانوں سے تباہ کیا جا رہا ہے،مدارس کی بات چھوڑیں محمد علی جوہر یونیورسٹی جیسے جدید تعلیم کے ادارے کو بھی نقصان پہنچانے کی کوششیں کسی سے چھپی نہیں ہیں،کس طرح مساجد کے نیچے مندر تلاش کرنے کی باقاعدہ سازش کی جا رہی ہے اور عدالتیں حتیٰ کہ کئی ہائی کورٹ یا کچھ معاملوں میں سپریم کورٹ تک مسلمانوں کو راحت دینے سے انکار کر رہے ہیں یہ بھی دنیا دیکھ رہی ہے۔معمولی الزامات پر کس طرح مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوز کیا جا رہا ہے اس کی خبریں آئے دن سامنے آ رہی ہیں۔اس معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم کو بھی مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے لیکن سپریم کورٹ ایسے معاملوں میں از خود نوٹس لینے کے اپنے اختیار کو بھول بیٹھا ہے۔ بہرحال جس طرح سے ڈیموگرافیکل کمیٹی نے ریاستی سرکاروں سے مختلف موضوعات پر آئین کو نظر انداز کرتے ہوئے معلومات طلب کی ہیں ان کے پس پشت کسی بد نیتی کے ہونے کا اندیشہ غلط نہیں ہے اس لیے کہ اب تک اس طرح کے معاملوں میں جو طبقات نشانہ بنے ہیں اس معاملے میں بھی نشانہ ان ہی کی طرف ہے،اور بتانے کی ضرورت نہیںکہ یہ سب سنگھ کے ایجنڈے کا ہی حصہ ہے۔ naqvisiraj58@gmail.com Mobile :9811602330