گجرات کے وزیر اعلیٰ اور اس کے بعد ملک کے وزیر اعظم کے طور پر اپنے اقتدار کے 25سال مکمل ہونے کے موقع پر وزیر اعظم مودی نے گزشتہ 7اکتوبر کو جو بیان دیا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیر اعظم اپنی ’امیج بلڈنگ‘ کے معاملے میں ایسی بات کہنے میں کمال رکھتے ہیں جس کا ممکن ہے کہ حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ وزیر اعظم 7اکتوبر کو اپنے اقتدار کے 25برس مکمل ہونے کی مناسبت سے ’وکست بھارت سنکلپ سبھا‘پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔اپنے خطاب میں موصوف نے دیگر باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا کہ،’’25برس کی عوامی خدمت کا سفر ذاتی تشہیر کا موقع نہیں بلکہ ’وکست بھارت‘ کے عزم کو دوہرانے کا دن ہے۔‘‘راقم الحروف وزیر اعظم کے مذکورہ دعوے پر کسی شک کا اظہار نہیں کر رہا ہے،اور نہ ہی اس دعوے کی تردید کر رہاہے،لیکن جہاں تک سامنے کے حقائق کا تعلق ہے تو ان سے وزیر اعظم کے مذکورہ دعوے کی تصدیق بھی نہیں ہو تی۔بلکہ حقائق تو یہ بتاتے ہیں کہ ملک کی تاریخ میں کسی وزیر اعظم نے ذاتی تشہیر کو اس حد تک ترجیح نہیں دی جتنی کہ مودی جی نے دی ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس کے پس پشت خود وزیر اعظم کا کوئی رول نہ ہو،لیکن یہ بات تو طے ہے کہ ان کی ذات کی تشہیر کے معاملے میں روز جو نئے ریکارڈ قائم ہوئے ان پر مودی خاموش ہی رہے۔ایسے بھی بے شمار واقعات اس عرصے میں سامنے آئے کہ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مودی کے سامنے پارٹی کے کسی دوسرے لیڈر یا کسی آئینی سربراہ کو نظر انداز کر دیا گیا۔اس طرح کے حالات کو کس خانے میں رکھا جائے؟ اپوزیشن پارٹیاں الزام لگاتی رہی ہیں کہ مودی کے دور اقتدار میں ان کی ’امیج بلڈنگ‘ پر بے حساب قومی پیسہ خرچ کیا گیا۔حالانکہ اس طرح کے الزامات ماضی میں آنجہانی وزیر اعظم اندرا گا ندھی پر بھی لگتے رہے ہیں،خصوصاً ایمرجنسی کے دور میں جس طرح اندرا گاندھی کی تصاویر اور بیانات کی سرکاری طور پر تشہیر کی گئی اس پر تنقید ہوئی ہے۔لیکن جہاں تک مودی جی کا تعلق ہے تو معاملہ صرف سرکاری اشتہارات میں ان کی تصاویر تک ہی محدود نہیں ہے،بلکہ ایسے بہت سے شعبے ہیں کہ جہاں حکومت کی کارکردگی کو صرف مودی کی قصیدہ خوانی تک محدود کر دیا گیا اور یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ گویا پوری حکومت میں تمام کام صرف ایک شخص ہی کر رہا ہے ،اور وہ مودی ہیں۔حالانکہ مودی حکومت سے پہلے بھی ایسا ہوا ہے،لیکن مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ان سے متعلق تشہیری مہم پر جتنی بڑی رقم خرچ کی گئی وہ اپنے آ پ میں ریکارڈ ہے،اور یہ ریکارڈ اس لیے ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روپئے کی گرتی ہوئی قیمت کے باوجود معاملہ صرف تشہیری رقم کے پہلے سے زیادہ ہونے کا نہیں ہے بلکہ اگر تناسب کے اعتبار سے دیکھیں تب بھی یہ ایک ریکارڈ ہے۔ایک آر ٹی آئی کے ذریعے یہ انکشاف ہوا ہے کہ مرکز میںمودی سرکار کے آنے کے بعد سے یعنی2014کے بعد سے کئی ہزار کروڑ روپئے پرنٹ، الیکٹرانک اور آئوٹ ڈور اشتہارات پر خرچ کیے جا چکے ہیں،اور ظاہر ہے ان اشتہارات میں صرف مودی ہی نظر آئے۔معاملہ صرف سرکاری رقوم کے تشہیر پر خرچ کرنے کا ہی نہیں ہے،بلکہ پارٹی فنڈ سے بھی اشتہاری مہم پر بڑے اخراجات کی خبریں آتی رہی ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ مودی نے اپنے وزیر اعظم کے اب تک کے دور میں ریکارڈ توڑغیر ملکی سفر کیے ہیں۔اوّل تو یہ کہ سرکاری خرچ پر اتنے سفر ہی کسی وزیر اعظم نے نہیں،دوسری بات یہ کہ ایسے دوروں کی سب سے نمایاں خوبی یہ رہی کہ پارٹی کی غیر ملکی شاخوں نے متعلقہ ملک میں ہند نژاد شہریوں کو مودی کے لیے عوامی پروگرام منعقد کر کے اس میں بڑے خرچ پر سامعین کو بلایا،ان پروگراموں میں جس طرح ــ’’مودی مودی‘‘ کے نعرے لگائے گئے انھیں صرف مودی کی مقبولیت سے جوڑ کر دیکھنا درست نہ ہوگا۔ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ جب سامعین یا حاضرین نے بتایا کہ ان پر دبائو ڈال کر پروگرام میں شرکت کے لیے کہا گیا۔یہ بات بھی عام ہے کہ بہت سے سرکاری پروگراموں کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ یہ فرق کرنا مشکل تھا کہ پروگرام مودی کی امیج بلڈنگ کے لیے بی جے پی نے منعقد کیا ہے یا یہ سرکاری پروگرام ہے۔ٹی ایم سی نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف2020سے 2026کے درمیان ہی 2586کروڑ روپئے مودی کی تشہیر پر خرچ کیے گئے۔کانگریس نے تو بار بارالزام لگایا ہے کہ ’’ایک شخص(یعنی مودی)کے گرد شخصیت کا ’کلٹ بنانے‘کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ کورونا کے دور میں اس بات پر کافی تنقید ہوئی تھی کہ آخر کووڈ ویکسینیشن سرٹیفیکیٹس پر مودی جی کی تصویر چھاپنے کا کیا جواز ہے؟ ظاہر ہے یہ سرٹیفیکیٹس کسی ترقیاتی سرکاری منصوبے سے متعلق نہیں تھے ،اور ان پر وزیر اعظم کی تصویر شائع کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔خود وزیر اعظم کو ایسے معاملے میں مداخلت کرکے اپنی تصویر ہٹوا دینی چاہیے تھی۔اگر وہ ایسا کرتے تو مانا جا سکتا تھا کہ مودی ذاتی تشہیر سے اجتناب برتتے ہیں۔اسی طرح غریب عوام میں تقسیم ہونے والے راشن کے تھیلوں،سرکاری ادویات کی پیکنگ یا منصوبوں پر بھی مودی جی کی تصویر شائع ہونا ان کے مذکورہ دعوے سے میل نہیں کھاتا۔ پارلیمانی انتخابات (2024)سے پہلے جاری ہونے والے سرکاری اشتہارات کے بی جے پی کے انتخابی نعروں ملتے جلتے ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس نے الیکشن کمیشن سے اس کی شکایت کی تھی۔یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ عوامی فنڈز پارٹی کی اشتہاری مہم کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔یہ واضح ہے کہ بی جے پی کی پوری اشتہاری مہم میں پارٹی صدر کا چہرہ کم اور مودی کا چہرہ زیادہ نمایاں دکھایا جاتارہا ہے۔اس سے زیادہ ذاتی تشہیر کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔اب یہ الگ بحث ہے کہ اس میں خود مودی کی خواہشات کا کتنا دخل تھا۔البتہ کچھ عوامی مواقع ایسے ہیں کہ جہاں مودی جی کا ’کیمرا پریم‘ کھل کر سامنے آیا ہے۔کئی بار دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے سامنے سے ان سیکورٹی اہلکاروں کو بھی ہٹا دیتے ہیں جن کے بارے میں انھیں لگتا ہے کہ اس سے ان کی تصویر متاثر ہو گی۔مودی کے اب تک کے دور اقتدار میں ایسے کئی مواقع آئے ہیں کہ جب کسی خاص واقعے کو اتفاقی ظاہر کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مودی جی کتنے سادہ دل اور عوام سے راست طور پر تعلق بنانے والے لیڈر ہیں، حالانکہ ایسے واقعات کی جب کچھ کھوجی رپورٹروں نے جانچ پڑتال کی تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ سب کچھ منصوبہ بند طریقے سے اور مودی جی کی شبیہہ کو بہتر بنانے کے لیے ہی کیا گیا ڈرامہ تھا۔ یاد کریں2014میں مودی کی ایک تصویر وائرل کی گئی جس میں انھیں جھاڑو پکڑے ہوئے اور فرش صاف کرتے دکھایا گیا تھا،اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ مودی جی بہت سادہ شخصیت کے مالک ہیں،لیکن بعد میں آر ٹی آئی کے جواب میں اس تصویر کے جعلی ہونے کی بات سامنے آئی۔ بھلے ہی مودی جی کا اس تصویر کو وائرل کرنے میں کوئی رول نہ ہو لیکن ایساکرنے والے کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟’’سوچھ بھارت ابھیان‘ کے دوران تو عوامی مقامات پر جھاڑو لگاتے ہوئے یا سڑک کا کوڑا ہٹاتے ہوئے وزیر اعظم کی تصویر کو خود حکومت یا بی جے پی نے خوب مشتہر کیا۔یوگا ڈے پر وزیر اعظم کی تصویر جس طرح بار بار دکھائی جاتی ہے وہ ذاتی تشہیر نہیں تو کیا ہے؟اسی طرح میٹرو ٹرین میں کسی مسلمان سے بات چیت ،کسی گائوں یا قصبے میں عام آدمی سے بات چیت کی ویڈیوز کو وائرل کرنا کیا ہے؟ ان تمام باتوں کو چھوڑیے کہ ہو سکتا ہے کہ اس میں خود وزیر اعظم کا کوئی رول نہ ہو،لیکن دس لاکھ روپئے کا جوڑا پہننا،50سے60ہزار روپئے تک کی قیمت والی گھڑیاں پہنناکیا ثابت کرتا ہے؟ایک ترقی پذیر ملک کے وزیر اعظم کو اس طرح کی نمائشی طرز زندگی اپنانا ذاتی تشہیر کا پہلو نہیں تو کیا ہے؟جس دس لاکھ کے سوٹ کا مندرجہ بالا سطور میں ذکر کیا گیا اسے مودی جی نے 2015میں امریکی صدر براک اوباما کے ہندوستان آنے کے موقع پر پہنا تھا۔سوٹ کا سب سے قابلِ ذکر پہلو یہ تھا کہ اس پر سونے کی بہت باریک کڑھائی سے ’نریندر دامودر داس مودی ‘لکھا گیا تھا ۔کیا یہ ذاتی تشہیر نہیں تھی۔یہ الگ بات کہ بعد میں جب عوامی سطح پر اس سوٹ کو لیکر اعتراضات ہوئے تو اسے سرکاری طور پر چار کروڑ سے زیادہ کی رقم میں نیلام کرکے رقم سرکاری خزانے میں جمع کرا دی گئی۔بہرحال یہ تمام واقعات مودی کے اس زیر بحث دعوے کی تصدیق نہیں کرتے کہ وہ ذاتی تشہیر سے اجتناب برتتے ہیں۔ naqvisiraj58@gmail.com Mobile:9811602330
ذاتی تشہیر سے اجتناب :دعویٰ اور حقیقت
کورونا کے دور میں اس بات پر کافی تنقید ہوئی تھی کہ آخر کووڈ ویکسینیشن سرٹیفیکیٹس پر مودی جی کی تصویر چھاپنے کا کیا جواز ہے؟ ظاہر ہے یہ سرٹیفیکیٹس کسی ترقیاتی سرکاری منصوبے سے متعلق نہیں تھے ،اور ان پر وزیر اعظم کی تصویر شائع کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔خود وزیر اعظم کو ایسے معاملے میں مداخلت کرکے اپنی تصویر ہٹوا دینی چاہیے تھی