لکھنؤ:اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل ہی پوسٹروں کے ذریعے ریاست کی سیاست میں گرما گرمی پیدا ہو رہی ہے۔ گذشتہ روزسماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو نے اعظم خان سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد جمعہ کی صبح جب اتر پردیش کے مختلف شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکلے تو اہم چوراہوں پر لگے پوسٹر دیکھ کرلوگ حیران وششدر رہ گئے۔ یہ پوسٹر اکھلیش یادو کے خلاف لگائے گئے ہیں، جن کے ذریعے ان پر طنز کیا گیا ہے۔ ان پوسٹروں میں تخلیقی انداز بھی نمایاں ہے۔ نعروں میں ہم قافیہ الفاظ کے استعمال کے ساتھ ساتھ تصاویر کے ذریعے بھی مختلف تجربات کیے گئے ہیں۔لکھنؤ میں نیشنل پی جی کالج کراسنگ کے قریب اکھلیش یادو کے خلاف ایک بڑا پوسٹر لگایا گیا ہے۔ اس میں اکھلیش یادو کی گول ٹوپی پہنے ہوئے تصویر ہے۔ ان کے ساتھ مبینہ مافیا سرغنہ عتیق احمد اور مختار انصاری کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں۔

پوسٹر پر نعرہ درج ہے: ’’چائے، سموسہ، رس ملائی، سارے مافیا اپنے بھائی۔‘‘

اکھلیش یادو کے خلاف صرف لکھنؤ ہی نہیں بلکہ اتر پردیش کےتقریباً 15 اضلاع میں پوسٹر نظر آئے ہیں۔ لکھنؤ کے علاوہ بلیا، مئو، غازی پور، اعظم گڑھ، وارانسی، بستی، ہردوئی اور سیتاپور سمیت ریاست کے 15 اضلاع میں یہ پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ ان پوسٹروں میں عتیق احمد، مختار انصاری اور اعظم خان کی تصاویر شامل ہیں۔پوسٹروں پر لکھا ہے: ’’سپائیوں کا کیا بھروسا، چائے، سموسہ، رس ملائی، سارے مافیا اپنے بھائی۔‘‘

ان شہروں میں لگائے گئے پوسٹروں میں 2013 کے یوپی پی سی ایس بھرتی امتحان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پوسٹروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 86 میں سے 56 عہدوں پر ایک مخصوص ذات کے لوگوں کی بھرتی ہوئی تھی۔ سماج وادی پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر لکھا گیا ہے: ’’رس گلا اور رس ملائی، ایک ذات کی سرکار آئی۔‘‘

پوسٹروں کے ذریعے سماج وادی پارٹی پر خاندانی سیاست کا الزام لگاتے ہوئے بھی اکھلیش یادو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک پوسٹر پر درج ہے: ’’دال، چاول اور اچار، پارٹی مطلب ایک پریوار۔‘‘

ان پوسٹروں میں اکھلیش یادو کی افطار پارٹی اور ایس پی حکومت کے دور میں ہوئے مظفر نگر فسادات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک پوسٹر پر نعرہ لکھا ہے: ’’دنگا، افطار اور بریانی، ایس پی راج کی اصل کہانی۔‘‘