الیکشن کمیشن کے استعفیٰ کا مطالبہ پر مظاہرین کے ساتھ پولس کی درندگی؟

نئی دہلی:دہلی میں چیف الیکشن کمشنر کے گیانیشور کمار کےووٹر لسٹ میں دھاندلی کے خلاف دہلی میں ہورہے مظاہر ے کے دوران دہلی پولس نے جس بربرتااور درندگی مظاہر ہ کیاہے اس کی نظیر نہیں ملتی ۔مظاہرین کے ساتھ جس طرح کا سلوک کرنا اور صحافیو ں کے ساتھ خصوصی طور پر جس طرح خواتین صحافیوں کے ساتھ جو بدسلوکی اوربدتمیزیاں کی گئیں ہیں ان سب کے لئے عوام میں شدید غم وغصہ پایا جارہاہے اور خاطی پولس افسران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔طلبہ اور مظاہرین کو جس طرح سے حراست میں لیا جارہا ہے یہ ساری چیزیں اپنے آپ میں سوال کھڑا کررہی ہیں۔

نہاں بورا کو بھی ایک گاڑی میں بٹھاکرحراست میں لیا گیا اور مظاہرین نے ا س گاڑی کوہی روک دیااور آگے بڑھنے نہیں دیا۔نہاں بورا نے بعد میں ایک ویڈیو کے ذریعہ کہا کہ ہم کو باربار حراست میں لیا جارہا ہے،انھوں نے پولس پر کئی سنگین الزام لگاتے ہوئے کہ ہم کتے ‘نہیں ،کیڑے مکوڑے نہیں، بلکہ ہم اس ملک کے شہری ہیں،ہمیںاحتجاج اور مظاہرہ کرنے کا پورا حق ہے جبکہ لاء اینڈر آر ڈ کو مینٹین کرنا پولس کی ذمہ داری ہے۔جنتَر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر جاری احتجاج کے دوران دہلی پولیس کی کارروائی کا سامنا صرف مظاہرین کو ہی نہیں کرنا پڑا۔بلکہ متعدد صحافیوں کو بھی پولیس نے روکنے، وہاں سے ہٹانے اور حراست میں لینے کی کوشش کی۔ ان میں خصوصی طور پر آزاد اور ڈیجیٹل میڈیا کے لیے کام کرنے والے صحافی شامل تھے۔اس دوران سامنے آئے کئی ویڈیو میں صحافی پولیس کو اپنا پریس کارڈ دکھاتے نظر آ رہے ہیں، اس کے باوجود انہیں وہاں سے ہٹایا جا رہا ہے۔ بعض معاملوں میں صحافیوں کو پولیس کی گاڑیوں میں لے جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

ایک ویڈیو میں ڈیجیٹل میڈیا کے صحافی محمد ایان پولیس اہلکاروں کو اپنا پریس کارڈ دکھاتے ہیں۔ اس کے جواب میں ان سے پوچھا جاتا ہے—’پی آئی بی کارڈ ہے؟‘ اس کے بعد انہیں پولیس کی گاڑی کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اس سے قبل دی وائر کے صحافی محمد عرفان سے بھی پولیس نے پی آئی بی کارڈ دکھانے کو کہا تھا۔

ایک اور ویڈیو میں جن چوک سے وابستہ کچھ صحافیوں کو پولیس نے جنتَر منتر کے پاس کناٹ پلیس میں روکا۔ صحافی بار بار اپنا آئی ڈی دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ صرف احتجاج کی کوریج کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود پولیس انہیں وہاں سے ہٹاتی نظر آتی ہے۔