سی جے پی نے گیانیشور کمار کے استعفیٰ کامطالبہ کیا

48 گھنٹے کا الٹی میٹم، پورے ملک میں احتجاج کی دھمکی

نئی دہلی:کاکروچ جنتا پارٹی کے فائونڈر ابھیجیت دیپکے اور ان کے ساتھیوں نے ایس آئی آر میں گھپلےبازی و خرردبردکرنے کے الزام میں استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے اور اگر چیف الیکشن نے استعفیٰ نہیں دیا تو بصورت دیگر پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کئےجائیں گے۔

ایس آئی آر معاملے میں دو الیکشن کمشنروں کے ساتھ اختلافات کو لے کر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار اپوزیشن جماعتوں کے نشانے پر آگئے ہیں۔ ان کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے محاذ کھولتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

پارٹی نے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا اور دہلی میں غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیا جائے گا۔پارٹی کے قومی کنوینر ابھیجیت دیپکے، شریک کنوینر سورَو داس اور آشوتوش رانکا نے’’الیکشن کمیشن ٹھیک کرو‘‘ مہم کا آغاز کیا۔

رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کے دوران مسودہ ووٹر فہرست سے 13 کروڑ سے زائد، یعنی تقریباً 13 سے 14 فیصد ووٹروں کے نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ ان میں صرف مہاراشٹر اور اتر پردیش میں دو، دو کروڑ، کرناٹک میں ایک کروڑ جبکہ دہلی میں 47 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے نکالے گئے ہیں۔

ابھیجیت دپیکے نے کہاکہ جمہوریت میں عوام سرکا رکا انتخاب کرتی ہےلیکن الیکشن کمیشن یہ طے کررہا ہے کہ کون ووٹ دے گا اور کون ووٹ نہیں د ے گا۔انھوں نے الزام لگایاکہ دوسرے الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے اصولوں کو درکنار کر کئے گئے فیصلوں اور ڈیٹا کو مرکزیت دینے پر اپنااعتراض درج کرایاتھا۔

قائین کو بتادیں کہ الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کی بات سامنے آنے کے بعد سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران دہلی کانگریس نے آج الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جس کے پیش نظر الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔دہلی کانگریس کے احتجاج کے پیش نظر الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ بھارتی یوتھ کانگریس بھی آج سی ای سی گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے 5، رائے سینا روڈ سے جنتر منتر تک احتجاجی مارچ نکالنے والی ہے۔ اس کے پیش نظر پولیس نے یہاں بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا، ’’میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔ میرے پاس اسے ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں۔ یہ 99 فیصد نہیں بلکہ 100 فیصد یقینی ہے۔‘‘