سیرت آئمہ معصومین علیھم السلام تاریخ بشریت کا ایسا روشن باب ھے جس کےگوشہ گوشہ سے نورانیت ساطع ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

حدیث کی روایت

اخلاق کی حمایت

علوم کی اشاعت

دین کی حفاظت

یہ وہ اہمنکات ہیں جو آئمہ معصومین علیھم السلام کے اس الہی منصب کا مدار نظر آتے ھیں جن کی بنیاد پر کارامامت کی عمل گزاری متشکل ھوتی ھے۔ انہی نکات کی روشنی میں زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود بھی اپنےاپنے عرصہ امامت میں ھر معصوم امام کے اسلوب دفاع دین کی روح میں یکسوئی نظر آتی ھے اور پھر تمام تر تاریخی جبر کے باوجود بھی تاریخ کے اوراق خود بول کر بتانے پہ مجبور

ھو جاتے ھیں کہ یہ چنیدہ افرادِعترت آل عبا ھی ھر دور و ھر صورت حال میں

علم میں یکتا

پرہیزگاری میں بے مثال

خوف خدامیں پیش پیش

اللہ کے معاملے سب سے زیادہ سخت گیرمخلوق خدا میں سب سے زیادہ مقبول ہیں اور یہی وہ اوصاف حمیدہ تھے جن کی بنیاد پر حکومتیں اور حکمران ان صاحبان شرف سے خوف ذدہ رہتے تھے اور یوں اپنے اقتدار کو زوال پذیری سے بچانے کے لیے کبھی قتل اور کبھی اسیری کے حربے استعمال کرتے تھے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کاعرصہ امامت وحیات جہاں مختصر ہے وہاں مصائب و ابتلا سے بھی بھرا ہوادورامامت ہے۔

آپ کوبہت کم عرصہِ آزادی میسر رھا حتیٰ کہ زندان سے باہر بھی کڑی نگرانی کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے لیکن اس عظیم امام معصوم نے اپنے اسلوب تبلیغ سے ایوان ملوکیت کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا۔ اس ضمن میں آپ کی حکمت عملی کے درج ذیل اہم نکات قابل غور ہیں۔

بلاد اسلامی میں پھیلے ہوئےئے پیروان مکتب اھلبیت کے ارتباط کےلیے وکلا کاتعین فرما کر ایک نظام وضع فرما دیا اس طرح امام وقت تک عدم رسائی کی مایوسی کا ازالہ کر دیا گیا۔

مختلف زندانوں میں دوران اسارت مامورین ایذا لوگوں کے اذھان و کردار کو منقلب کرتے ھوئے اپنے اسلوب تبلیغ سےانہیں اپنی۔محبت کا اسیر کردیا اور یوں ایذارسانی بھی اذہان مخلوق خدا سے ان کی محبت کو کم نہ کرسکی۔

شہر قم میں سینکڑوں راویان حدیث کے تحقیقی کام کوجو غالیوں خاطیوں کی گڑھی ہوئی روایات کو الگ کرنےکےحوالے سے تھا آپ اس کی نگرانی فرماتے تھے اور جب کبھی اس ضمن میں وہ مشکلات کاشکار ھوتے تو امام کوعریضہ لکھ بھیجتے اور امام اپنی توقیع کے ذریعے ان کی راہنمائی فرماتے۔

اما م کے اسلوب امامت میں نظاام امامت سے جڑےلوگوں کی خبر گیری کرنا بھی ہے یہ خبر گیری کا کام آپ کے مرتب کردہ نظام خمس سے احسن انداز میں انجام پاتا رہا۔

آزادی از زندان کے عرصہ میں امام حسن عسکری ؑ بہت سارے مواقع پر لوگوں کے سوالات کے جوابات کے ذریعے عملی شکوک وشبہات کو دور فرماتےرہے اسی طرح اپنے مختصر کلمات کے ذریعے علوم کی اشاعت کا اہتمام فرمایا۔اب امام کے چند اقول سے اصلاح احوال کا سامان لینے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

رد منحرفین میں امام کا قول مبارک قابل غور ہے۔

”کچھ لوگ ھمارے کچھ علوم حاصل کرلیتے ہیں اورپھر ہمارے شیعوں میں جاکر ہمارے اس علم میں جھوٹ ملاملاکربیان کرتے ہیں جس سے ہم بری الذمہ ہوتے ہیں

تاہم وہ ان کو ہمارے شیعوں میں سے سمجھتے ان سے یہ باتیں صحیح جان کرلے لیتے ہیں اس طرح وہ خود بھی گمراہ ہوتےتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں پس یہ لوگ ہمارے عام شیعوں کے لیے اس سے زیادہ نقصان رساں ہیں جتنا کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کے لیے یزید کا لشکر“

مقام فکرھے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں جو انحرافی۔سوچ کے حامل افرد تھے اس قبیل کے لوگ آج بھی پائے جاتے ہیں اپنی باطل سوچ کو تشیع کالبادہ پہنائے پاکیزہ۔مکتب اھلبیت علیھم السلام کے روشن چہرے کو بدنما کرنے والے منحرفین لوگ، ضرورت اس امر کی ہے حضرت حجت ابن الحسن العسکری کے عشق میں سرشار قلوب کے حامل افراد اس بات کا عہد کریں کہ سیرت آئمہ معصومین علیھم ا لسلام اور تعلیمات ائمہ ھدیٰ جو خالص قرآنی اور الہی تعلیمات ہیںپر کاربند ہو کرسرخروئی کا راستہ اختیار کریں۔