زائرین امام حسین علیہ السلام کی فضیلت...!
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے - ” کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے - جو یہ گمان کرتا ہے کہ ہمارا شیعہ ہے ، اس کی عمر گزرتی جاتی ہے - مگر قبر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے نہیں جاتا - اور سستی و کاہلی کرتا ہے -
خدا کی قسم اگر اس کوپتہ چل جائے - کہ حضرت ع کی ز یارت کی کیا فضیلت ہے ؟ تو قطعی طور پر وہ کاہلی نہیں کرے گا ، راوی نے عرض کیا ، کیا فضیلت ہے ؟ فرمایا : وہ خیر ہے - اور اس کی بہت فضیلت ہے - سب سے پہلی چیز جو زائر کو ملے گی وہ یہ کہ اس کہ گناہ معاف ہو جائیں گے“
نیز امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے -” کہ سر زمین کربلا وہ زمین ہے - جس میں اللہ نے موسی ؑ کو کلیم بنایا ، نوح ؑ کی مناجات سنی ، یہ اللہ کی محترم ترین زمین ہے ، اگر یہ مقدس نہ ہوتی تو اللہ اسے اپنے اولیاء کا امین اور انبیاء کی گزرگاہ نہ بناتا ، کربلا میں جاکر ہمارے مزارات کی زیارت کیا کرو - اور تمام شیعوں سے کہہ دو ، کربلا جائیں اور زیارت کریں ۔
فرزند رسول ﷺ کی ، زیارت سے غم دور ہوتے ہیں ، زائر حسین علیہ السلام جل کر ، ڈوب کر نہیں مرتا ، اس کو درندے اذیت نہیں دیتے ، جو بھی امامت فرزند رسول ﷺ قائل ہے ، اس کے لیے زیارت کربلا فریضہ ہے ، اگر کوئی شخص ہر سال حج کر کے میرے اور فرزند رسول ﷺ کی زیارت نہ کرے - تو حقوق نبویہ (ص) میں سے ایک بہت بڑے حق کا تارک محشور ہوگا ، ہر مسلمان پر اللہ کی طرف سے حق امام حسین علیہ السلام فریضہ ہے“
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے - کہ جب سفر زیارت میں زائر کو پسینہ آتا ہے - خواہ یہ پسینہ گرمی کی وجہ سے ہو یا تھکاوٹ کی بدولت ، پسینہ کے ایک ایک قطرہ کے عوض اللہ ستر ہزار ملائکہ پیدا کرتا ہے ، جو تا قیامت زائر کے لیئے تسبیح اور استغفار کرتے رہیں گے ، جب زائر زیارت کے لیئے آب فرات سے غسل کرلیتا ہے - تو اس کے سارے گناہ ختم ہوجاتے ہیں -
زائرین امام علیہ السلام مظلوم کو نبی اکرم (ص) مخاطب ہو کر کہتے ہیں - ”میرے مظلوم فرزند کی زیارت کے لیئے مصائب سفر برداشت کرنے والو !! میں محمدؐ تمہیں جنت میں اپنے پڑوس کی بشارت دیتا ہوں ۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں - ”میرے مقتول عبرت بیٹے کے زوّارو !! میں علی علیہ السلام تمہاری تمام ضروریات خواہ دنیاوی ہوں - یا اخروی کے پورا کرنے کی ضمانت دیتا ہوں -“
زائر جب صحن فرزند فاطمہ سلام اللہ علیہا میں قدم رکھتا ہے - تو ہر طرف سے ملائکہ اسے گھیر لیتے ہیں ، جب زائر حرم امام مظلوم ع میں داخل ہوتا ہے - تو امام حسین علیہ السلام اسے دیکھ کر اس کے لیے اللہ سے دعائے مغفرت کرتے ہیں - امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تمام انبیاء اور ملا ئکہ بھی شامل دعا ہو جاتے ہیں - جب زائر واپس پلٹتا ہے - توجبرئیل علیہ السلام ، اسرافیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام دیگر ملائکہ کے ساتھ اس کو الوداع کرتے ہوئے کہتے ہیں : ” تو خوش نصیب ہے ، تیرے تمام گناہ معاف ہو گئے ، نہ تو کبھی آتش جہنم تیرے سامنے آئے گی - نہ تو آتش جہنم کو دیکھ سکے گا -“
پھر ایک ہاتف پکار کر کہتا ہے : توخوش بخت تھا، تجھے جنت مبارک ہو بعد از زیارت جب بھی اس دنیا سے رخصت ہوگا ، سب سے پہلے مظلوم کربلا تیری زیارت کو تشریف لائیں گے -